گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر سماعت وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر کل تک ملتوی کر دی گئی۔
سیشن کورٹ میں گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر سماعت ہوئی،ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات باجوہ نے علی ظفر کے دعوے پر سماعت کی،میشا شفیع کے وکیل ثاقب گیلانی نے آج اپنے حتمی دلائل مکمل کرلیے۔
وکیل میشاشفیع نے کہاکہ علی ظفر کا دعویٰ جرمانے کے ساتھ خارج کیا جائے ،ہتک عزت کے دعوے میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے،اس دعوے میں صرف عدالتی وقت ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ،علی ظفر اور میشا شفیع کی فیملی کے درمیان دیرینہ تعلقات تھے ،میشا شفیع نے ہراسگی کے دو مختلف واقعات رپورٹ کیے۔
وکیل میشا شفیع کے مطابق علی ظفر کے وکلاء نے میشا شفیع پر گھنٹوں جرح کی مگر وہ اپنے بیان پر قائم رہی،میشا شفیع نے معاملے کو پبلک کرنے سے نجی سطح پر معاملے کوحل کرنے کی کوشش کی ،میشا شفیع نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ساتھ مزید کام نہیں کر سکتی لہٰذاآپ پروجیکٹ سے پیچھے ہٹ جائیں ۔ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات باجوہ نے علی ظفر اور میشا شفیع کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر کارروائی کل تک ملتوی کر دی،کل عدالت میں علی ظفر کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پیش کیے جائیں گیے۔
عدالت میں میشا شفیع کی والدہ صبا پرویز سماعت کے دوران موجود تھیں۔


