حکومت پنجاب کاشتکاروں کو پیداواری اہداف کے حصول کے لئے معیاری زرعی مداخل کی فراہمی کے لئے ترجیحاً اقدامات کر رہی ہے، وزیر صنعت،تجارت و توانائی ایس ایم تنویر

حکومت پنجاب کاشتکاروں کو پیداواری اہداف کے حصول کے لئے معیاری زرعی مداخل کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔فصلات کی نئی اقسام کا منظور شدہ اقسام کا بیج سے ملکی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر صنعت،تجارت وتوانائی ایس ایم تنویر نے پنجاب سیڈ کونسل کے56ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ سیکٹر کی زرعی اجناس کے بیجوں کی 56نئی اقسام کی منظوری دید ی گئی جن میں دھان،ہائبرڈ مکئی، جئی،چنے،مونگ پھلی،رائیا،سورج مکھی،تل،برسیم،کھجور،گندم اور کپاس کی اقسام شامل تھیں۔مجموعی طو پرپنجاب سیڈ کونسل کے56 ویں اجلاس میں صوبائی وزیر نے 56 نئی اقسام کی عام کاشت کے لئے منظوری دی گئی جبکہ 7مختلف فصلات کی اقسام کو ڈی این اے فنگر پرنٹس رپورٹس15 دن کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی۔

اس موقع پر صوبائی وزیرصنعت،تجارت و توانائی پنجاب ایس ایم تنویر نے فصلات کی مختلف اقسام کی منظوری کے سلسلہ میں درپیش مسائل کا جائزہ لینے کے لئے سب کمیٹی”سبز انقلاب2 ”قائم کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے نئی اقسام کی تیاری پر زرعی سائنسدانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ریسرچ ٹرائلز کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت کی اور آئندہ کے لئے پنجاب سیڈ کونسل میں زرعی اجناس کی اقسام کی منظوری کو ورائٹی رجسٹریشن اور ڈی این اے فنگر پرنٹنگ کو لازماً لانے کی ہدایت کی۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت معیاری بیج کی تیاری پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ عالمی معیار کے بیج سے ہم زرعی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کر سکیں جس سے ملکی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشیدنے زرعی اجناس کی نئی اقسام کی دریافت کرتے وقت معیارکو برقرار رکھنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ اقسام کی دریافت کی بجائے ایسی اقسام دریافت کی جائیں جو فیلڈ میں بہتر رزلٹ دے سکیں۔ ہمارے ملک میں روایتی زراعت کے علاوہ کھجور اور پھلوں کی پیداوار میں اضافہ کے مواقع موجود ہیں۔سیکرٹری زراعت نے جدید ہارویسٹنگ ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے پر زور دیا۔ انھوں زرعی سائنسدانوں پر زور دیا کہ وہ ایسی اقسام دریافت کریں جو فیلڈ میں پانچ سال یا اُس سے زیادہ عرصہ تک کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کو کم رکھتے ہوئے منافع کا باعث بن سکیں۔

انھوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات میں کمی کے لئے قوت ِ مدافعت کی حامل فصلات کی نئی اقسام کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ بیماریوں کا حملہ کم ہو اور ہماری فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔ سیکرٹری زراعت نے خالص بیج اور بریڈرز رائٹس کے حقوق کے تحفظ کے لئے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ رپورٹ کو لازم و ملزوم قرار دیا۔اجلاس میں اسپشل سیکرٹری زراعت(مارکیٹنگ) پنجاب کلثوم حئی،ایم ڈی پنجاب سیڈ کارپوریشن شان الحق سمیت پنجاب سیڈ کونسل کے ممبران اور پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کے بریڈرز حضرات کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *