یورپی یونین کے وفد کے سربراہ گائیڈوڈولارا نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس سٹیٹس کے سلسلے میں ٹھوس نتائج دکھانے کے لیے اکتوبر تک کا وقت انتہائی اہم ہے کیونکہ اس ماہ یورپین یونین رپورٹ کا مسودہ پیش کیا جائے گا۔ صدر لاہور چیمبر میاں نعمان کبیر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس سے فائدہ اٹھانے والا بڑا ملک ہے، تاہم بہت سے ایسے شعبے ہیں جن میں صحیح طرح فائدہ حاصل نہیں کیا جارہا۔

نائب صدر حارث عتیق بھی اس موقع پر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر ایس ایم ای سیکٹر کو جی ایس پی پلس سٹیٹس سے فائدہ اٹھانے میں بھرپور مدد دے سکتا ہے، ہم مانیٹری رپورٹ کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں اور یہ رپورٹ اکتوبر تک مکمل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگلی جی ایس پی پلس سکیم قواعد پر قانون سازوں کی طرف سے بحث ہو رہی ہے، فائدہ اٹھانے والے ممالک کو اسکیم کے لیے دوبارہ درخواست دینا ہوگی جبکہ بہتر عمل درآمد کرنے والوں کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تاجر برادری اور حکومت کے درمیان روابط بہت اہم ہیں تاکہ مزدوروں کے حقوق اور ماحولیات کے شعبوں میں قواعد و ضوابط کے نفاذ کا عمل بہتر بنایا جاسکے۔ لاہور چیمبر کے صدرنے کہا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس نے دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی وجہ سے، یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات، جو 2013 میں تقریبا 6.2 ارب ڈالر تھیں، 2021 میں 9.7 ارب ڈالر ہو گئیں۔

لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ جی ایس پی سے یورپی یونین بھی مستفید ہورہی ہے کیونکہ اس نے وہاں کے کاروباری اداروں کو پاکستان سے مسابقتی قیمتوں پر معیاری ٹیکسٹائل مصنوعات درآمد کرنے کے قابل بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین سے پاکستان کی درآمدات بھی 2013 میں 4.4 بلین ڈالر سے بڑھ کرسال 2021 میں 6.4 بلین ڈالر ہو گئیں کیونکہ پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری یورپی یونین سے مشینری درآمد کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت میں اضافے کا مطلب روزگار کے مزید مواقع، غربت میں کمی، کام کے بہتر حالات، پائیدار پالیسیوں کا فروغ اور پاکستان کے میکرو اکنامک اعشاریوں میں بہتری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کی بدولت یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات ملک کی کل برآمدات کے 35 فیصد سے زائد ہوگئی ہیں، اس تناظر میں پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع ہماری معیشت کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

میاں نعمان کبیر نے کہا کہ یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات پر مشتمل ہے، جی ایس پی پلس کے نتیجے میں پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری نے نمایاں ترقی کی ہے جو اب چالیس فیصد صنعتی لیبر فورس کو روزگار فراہم کررہی ہے جبکہ قومی برآمدات میں اس کا حصہ ساٹھ فیصد سے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سٹیٹس کے سلسلے میں نجی شعبہ اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا اور یورپین یونین کے کنونشنز پر بھرپور عمل درآمد کے لیے حکومت کی معاونت کرے گا۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.