ایکسپورٹ بڑھانے کی ضرورت ہے،عرفان یوسف، پاکستانی مصنوعات کو مزید پھیلانا ہوگا ،عامرعطا باجوہ پاکستان اورکینیڈا کے مابین تعلقات خوشگوار ہیں،ملک سہیل ،سید نوید بخاری کی عثمان شیخ کے عشائیہ میں گفتگو

ونائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ پاکستانی ایکسپورٹ کی معاشی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت ہے ،اس وقت مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے ،قرضے واپس کرنے کیلئے قومی خزانے میں پیسے نہیں ہیں،پاکستان کا قرضہ اسی وقت اتر سکتا ہے کہ جب ہمارے حکمران،سیاستدان،بیوروکر یٹ سمیت پوری قوم فاضل اخراجات ختم کرے اور ملک کی ترقی کیلئے یک جان ہوکر کام کرے۔ 

یو بی جی کے مرکزی ترجمان گلزارفیروز کے اعلامیہ کے مطابق اایس ایم منیرنے یہ بات سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی عثمان شیخ کی جانب سے کینیڈا میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ میں کینیڈا میں پاکستانی نژاد بزنس مینوں سے گفتگو کے دوران کہی۔ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئرنائب صدر عامر عطا باجوہ، سابق ریجنل چیئرمین اور سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی حاجی عرفان یوسف، سید نوید بخاری، ایس ایم عرفان، عامر شمسی، ملک سہیل حسین، میاں محمد احمد، پرویز اختر شریک ہی تھے۔

ایس ایم منیر نے کہا کہ پاکستان کی اکنامی کو مضبوط بناناحکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیئے کیونکہ پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہوگی تو ہماری آنے والی نسل مضبوط ہوگی۔ حاجی عرفان یوسف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں مقیم پاکستانی نژاد بزنس مین پاکستان اورکینیڈا کے مابین باہمی تجارت کے فروغ کیلئے بھرپور کردار ادا کررہے ہیں ، پاکستان اور کینیڈاکے مابین تجارت بالخصوص پاکستان سے کینیڈا کیلئے ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
عامرعطا باجوہ نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات کو کینیڈین مارکیٹوں میں مزید پھیلانا ہوگا تاکہ پاکستان کی معیشت کواستحکام مل سکے۔ملک سہیل حسین نے کہا کہ پاکستان اورکینیڈا کے مابین تعلقات خوشگوار ہیں،دونوں ممالک کے مابین تجارت میں اضافہ کو اولین ترجیح دے کر حکومت کے وژن کے مطابق برآمدات بڑھائی جائیں تو دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے۔نویدبخاری نے کہا کہ ایس ایم منیر پاکستان کی طرح کینیڈا میں بھی پاکستانی بزنس کمیونٹی کے قائد ہیں اور پاکستان ،کینیڈا کی بزنس کمیونٹی میں بہتراورمضبوط روابط کی جدوجہد کررہے ہیں۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.