سی این جی انڈسٹری کو گیس کی سپلائی اور کاروبار کرنے کا مناسب موقع دیا جائے تو سالانہ 1500 ارب کا سالانہ گردشی قرضہ کم کیا جاسکتا ہے۔سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما غیاث عبداللہ پراچہ نے کہا ہے کہ روز بروز بڑھتے سرکلر ڈیبٹ/گردشی قرضہ کو سالانہ 1500 ارب روپے تک کم کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس انڈسٹری کو ضرورت کے مطابق گیس مہیا کی جائے اور کاروبار کرنے کے مناسب مواقع فراہم کئے جائیں۔

اس وقت سی این جی سیکٹر حکومت سے 13ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے 20 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پرگیس حاصل کررہی ہے جبکہ حکومت دوسرے سیکٹرز/شعبوں کو یہ گیس 3ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے 8ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر مہیا کررہی ہے لہذا حکومت کوچاہیئے کہ وہ پالیسی وضع کرتے ہوئے ایسا فیصلہ کرے کہ گردشی قرضہ جو اس وقت 2 کھرب سے بڑھ چکا ہے اس کا بوجھ قومی خزانے پر کم ہوسکے اور حکومت مہنگائی کی ستائی عوام کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی روزبروزبڑھتی ہوئی قیمتوں کے منفی اثرات سے بچانے کے لئے بروقت صحیح فیصلے کرے تاکہ عوام کو ہر پندرہ دن کے بعد تیل کی قیمتوں میں بھاری اضافے کے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے، سی این جی سیکٹر کو گیس مہیا کرنے کی بجائے ان سیکٹرز کو گیس دی جارہی ہے جو سستے دام پر حکومت سے گیس حاصل کررہے ہیں اور اربوں روپے کی سبسڈی بھی وصول کررہے ہیں،سی این جی سیکٹر کو فوری گیس فراہم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے سی این جی سیکٹر کے مرکزی رہنما نے کہا کہ پنجاب کے سی این جی سٹیشنز پچھلے سات ماہ (7دسمبر 2021 سے آج دن تک) سے بند پڑے ہوئے ہیں، انھیں فوری کھولنے کیلئے گیس مہیا کی جائے تاکہ عوام کو مہنگے تیل کی قیمتوں کے اثرات سے نجات مل سکے کیونکہ سی این جی آج بھی پٹرول کی قیمت کے مقابلے میں بہت سستی ہے۔

غیاث عبداللہ پراچہ نے کہا ہے کہ حکومت فیول امپورٹ بل کی مد سالانہ دو اعشاریہ ایک ارب ڈالر($2.1 ارب ڈالر) کے زرمبادلہ کے ذخائر کی بچت کرسکتی ہے اگر پرائیویٹ سیکٹر کو سی این جی سیکٹر کی گیس کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے بیرون ملک سے ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دی جائے جبکہ سی این جی سیکٹر کو گیس کی مسلسل فراہمی سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی کرکے مہنگائی کی ستائی عوام کو فوری ریلیف بھی مہیا کیا جاسکتا ہے۔

اس وقت ملک کے چاروں صوبوں میں 2300 سی این جی سٹیشنز قائم ہیں جن میں سے 1100 سی این جی سٹیشنز صوبہ پنجاب میں، 575 سی این جی سٹیشنز صوبہ خیبر پختونخوا میں، 600 سی این جی سٹیشنز صوبہ سندھ میں اور 25 سی این جی سٹیشنز صوبہ بلوچستان میں قائم ہیں۔ اس وقت گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے پچاس فیصد پنجاب کے سی این جی سٹیشنز گذشتہ سات ماہ سے بند پڑے ہوئے ہیں

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.