پاکستان کسان بورڈکے مرکزی رہنمااحمد گورایہ نے کہا کہ ہمیں جدید زرعی ٹیکنالوجی کو کھیتوں تک مؤثر انداز میں منتقل کرنے کیلئے ضلعی سطح پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نظام کو بہتر بنانا ہو گاجبکہ کثیر زرمبادلہ کمانے کیلئے آرگینک فارمنگ سمیت زرعی اجناس کی برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی اپنانے اور زرعی اجناس کی درآمدات کم کرنیکی پالیسی پربھی خصوصی توجہ دینا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جبکہ دنیا بھر میں غذائی اجناس اور دودھ و گوشت کی مصنوعات کی زبردست مانگ کے ساتھ ساتھ بھاری زر مبادلہ کمانے کے وسیع امکانات موجود ہیں لہٰذا ہمیں دیہی افراد خصوصاً کاشتکاروں اور مویشی پال حضرات کی بھرپور معاونت کرنا ہوگی تاکہ وہ ملکی معاشی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے زراعت و لائیو سٹاک کی ترقی کیلئے مزید سہولیا ت و مراعات کا اعلان خوش آئند ہے جس کے مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے کسانوں اور مویشی پال حضرات کی خوشحالی کیلئے طویل المدتی زرعی اصلاحات اور تمام سٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے قابل عمل و مؤثر زرعی پالیسی کے نفاذ کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ شعبہ زراعت کو اولین ترجیحات میں شامل رکھنا ہوگا اور جی ڈی پی میں اس شعبہ کے حصہ کے مطابق ترقیاتی وسائل کی فراہمی ممکن بنانا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پیداواری لاگت کم کر کے بھارت، چین، ترکی، ملائیشیا، برازیل اور دیگر ممالک کی طرح ہر سالزرعی شعبے میں باقاعدگی سے سبسڈی میں اضافہ بھی یقینی بنا نا ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے زرعی تحقیق کے اداروں کو زیادہ وسائل فراہم کرنے کے علاوہ زرعی تحقیق کو سرکاری و نجی شعبے کے مابین اشتراک سے مزید مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.