نکاٹی کے عہدیداران سے ملاقات ،کراچی کے صنعتکاروں کو درپیش مسائل ،ملکی معاشی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے نیو کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز (نکاٹی) کا دورہ کیا اور نکاٹی کے عہدیداران سے ملاقات کی۔ ملاقات میں نکاٹی کے صدر فیصل معیز خان، نائب صدر نعیم حیدر سمیت دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ ملاقات میں کراچی کے صنعتکاروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

علی زیدی نے انڈسٹریل شعبے میں نکاٹی کی خدمات کو سراہا۔ ملاقات میں ملکی معاشی اور سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ نکاٹی کے صدر فیصل معیز خان نے علی زیدی کو موجودہ حکومت میں صنعتکاروں کو درپیش مسائل سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کے دور میں معیشت اور صنعتکاروں کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا۔ملاقات کے بعد پی ٹی آئی سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا نکاٹی کا چوتھا دورہ ہے۔ وزارت سے پہلے بھی اور وزارت دوران بھی میں یہاں آتا رہا ہوں۔ ملک میں بجٹ کا موسم ہے، امپورٹڈ حکومت نے جو بجٹ پیش کیا وہ عوام دشمن بجٹ ہے جسے ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔ موجودہ بجٹ میں اضافی ٹیکس اور مہنگائی کے سوا کچھ نہیں۔

اس موقع پر صدر پی ٹی آئی کراچی بلال غفار، ارکان اسمبلی اسلم خان، ریاض حیدر، سدرہ عمران، ڈاکٹر سنجے اور پی ٹی آئی رہنما اشرف قریشی بھی موجود تھے۔ علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت کے پاس ملک کو چلانے کے لیے کوئی پلان موجود نہیں ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے جب معیشت پر سوال ہوتا ہے تو وہ بوکھلا جاتے ہیں۔ وزیر خزانہ اپنی وزارت سے صرف اپنے ذاتی کاروبار کو فائدے دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ کے رہنما نے اسمبلی میں بہت گری ہوئی حرکت کی ہے۔ انہوں نے ایک ہاتھ میں آئین کی کتاب اٹھا کر دوسرے ہاتھ سے نازیبا اشارے کیے۔ عطا تارڑ کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔ سازش کے تحت ملک پر قابض ہونے والوں اب ملک نہیں سنبھالا جارہا۔ یہ سازش کے تحت ریجیم چینج لے کر آئے ہیں۔ ایک حکومت جو عوام کے لیے کام کررہی تھی اسے سازش کے تحت ہٹایا۔

22 مارچ کو پاکستان کا لیول دنیا میں اوپر جارہا تھا۔ او آئی سی اجلاس سے پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی تھیں۔ او آئی سی میں چائنا کے وزیر خارجہ نے خصوصی شرکت کی۔ علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ آج ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے۔ ملک کی ایکسپورٹ کم ہوتی جارہی ہیں۔ ہر چیز جو پاکستان کے لیے ٹھیک جارہی تھی وہ اب مخالف سمت میں جارہی ہیں۔

عدم اعتماد سے پہلے 17 ارب کے فارن ریزرو آج 9 ارب پر پہنچ گئے ہیں۔ حکومت کی سب سے پہلی ترجیح پسا ہوا طبقہ ہوتا ہے۔ عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ غریب آدمی کا خیال کریں۔ ہم نے احساس پروگرام سمیت دیگر فلاحی پروگرام شروع کیے۔ ہماری حکومت نے 2 سال تک کورونا کا مقابلہ کیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ پیر کو100 پوائنٹس گری ہے۔ چھوٹا کاروباری طبقہ انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے منٹس میں لکھا ہے کہ مداخلت ہوئی تھی۔ یہ سب کو سمجھ آگیا ہے کہ سازش کی گئی ہے۔ آصف زرداری، نواز شریف اور حقانی نے مل کر سازش رچائی۔ کوئی بھی صنعتکاریہ سمجھ رہا ہے کہ ہم ان کے دور میں آگے جائیں گے تو یہ غلط ہے۔ مقصود چپڑاسی کو دبئی میں ہارٹ اٹیک ہوا۔ اس سے پہلے ڈاکٹر رضوان کو بھی ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ عوام باشعور ہیں، یہ سب جانتے ہیں ملک میں کیا چل رہا ہے۔ اس موقع پر نکاٹی کی جانب سے سابق وفاقی وزیر علی زیدی کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا گیا

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.