رواں سال کپاس کے پیداواری ہدف کے حصول کے نتیجہ میں پاکستان مشکل معاشی گرداب سے نکل سکتا ہے جبکہ گزشتہ سال بھی تمام سٹیک ہولڈرز کی محنت کے نتیجہ میں کپاس کی بحالی کا سفر ممکن ہوا اور کپاس کاشتکاروں کیلئے منافع بخش فصل ثابت ہوئی تاہم اس بار موجودہ ہیٹ ویو ایک چیلنج ہے جس کے کپاس کی فصل پر مختلف اثرات مشاہدہ میں آئے ہیں اسلئے فصل کی صحت پر زیادہ سے زیادہ فوکس، گرم موسم اور پانی کی کمی جیسے اہم مسائل سے نمٹنے کیلئے بہتر مینجمنٹ ضروری ہے لہٰذا فیلڈ افسران اپنا زیادہ وقت کاشتکاروں کے ساتھ کپاس کے کھیتوں میں گزاریں اور فصل کی باقاعدگی سے پیسٹ سکاؤٹنگ کریں۔ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد چوہدری عبدالحمید نے کپاس کی کاشت کے حوالے سے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں 3.6 ملین ایکڑ رقبہ پر کپاس کاشت ہوچکی ہے جس سے 6.6 ملین گانٹھوں کی پیداوار متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام شعبہ جات مشترکہ کوششوں سے پیداواری ہدف کے حصول کو یقینی بنائیں نیز کاشتکاروں تک کپاس کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی پہنچانے کیلئے شعبہ توسیع و پیسٹ وارننگ کا عملہ فیلڈ میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑا رہے۔انہوں نے کہا کہ وہ خودبھی کاٹن سیزن میں فیلڈ سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی کاشت سے لیکر چنائی تک تمام عوامل بارے کاشتکاروں کی رہنمائی یقینی بنائی جانی چاہیے۔انہوں نے محکمہ زراعت کے حکام کو کھادوں اور زرعی زہروں کی مارکیٹ میں مقررہ نرخوں پر دستیابی اور قیمتوں و کوالٹی کو کنٹرول کرنے کیلئے سخت مانیٹرنگ کی بھی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ کپاس کی فصل کی ابتک کی صورت حال تسلی بخش ہے جبکہ کیڑوں اور بیماریوں کا حملہ بھی معاشی نقصان دہ حد سے نیچے ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو کپاس پرپہلے سپرے میں ممکنہ حد تک تاخیر کا مشورہ دیا جارہا ہے تاکہ مفید کیڑوں کے ذریعے ضرر رساں کیڑوں کو کنٹرول کیا جاسکے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.