تاجر برادری نے کہا ہے کہ تمام شناخت شدہ 3.5 ملین ٹیکس نادہندگان اور لاکھوں دیگر ٹیکس نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے تاکہ ٹیکس کی بنیاد کو وسیع اور موجودہ ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اتوار کو وفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر اور سابق سینئر نائب صدر لاہور چیمبر مہر کاشف یونس، ممبران ایگزیکٹو کمیٹی لاہور چیمبر شاہد نذیر اور مفتی یوسف شاہ نے کہا کہ ٹیکس چوروں اور نان فائلرز کے خلاف اعلی ٰسطح پر تھرڈ پارٹی کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 9.5 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے بھی کم ہے جبکہ فرانس میں اس کی شرح 46.2 فیصد، ڈنمارک میں 46.0 فیصد اور بیلجیم میں 44.6 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کی بنیاد کو خصوصی طور پر نئے ٹیکس دہندگان کو شامل کر کے وسیع کرنے کی فوری ضرورت ہے جو قومی معیشت کی مضبوطی کے لیے آکسیجن ثابت ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں منصفانہ ٹیکس کا نفاذ قوموں کی اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور ترقی پذیر ممالک میں خاص طور پر اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ مہر کاشف نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے اچھے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.