مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے روئی کی خریداری میں دلچسپی کی وجہ سے روئی کے بھاؤ میں اضافے کا رجحان رہا نئی فصل کی پھٹی کی آمد میں گاہے گاہے اضافہ ہورہا ہے صوبہ سندھ میں تقریبا 18 جننگ فیکٹریاں جزوی طور پر چل رہی ہے روزانہ تقریبا 2000 گانٹھیں تیار ہورہی ہیںجمعہ اورہفتے کے روز مارکیٹ میں خریداری کم ہونے کی وجہ سے روئی کا بھاؤ کچھ دباؤ میں رہا ۔

صوبہ پنجاب میں بھی بورے والا اور خانیوال کے کچھ علاقوں میں جننگ فیکٹریاں چل جائیں گی 15 جون سے زیادہ جننگ فیکٹریاں شروع ہونے کی توقع ہے لیکن 15 جولائی سے خاصہ کاروبار شروع ہونے کی توقع ہے اگر موسمی حالات موافق رہے تو اس سال روئی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہونے کی توقع ہے FAC نے روئی کا پیداواری ہدف 11.034 گانٹھوں کا مقرر کیا ہے امید ہے وہ پورا ہو سکے گا۔

نئی سیزن میں بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں بھی روئی کے بھاؤ میں اضافہ کا رجحان رہنے کی توقع کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل اسپنرز کو روئی کی خریداری میں محتاط رہنا پڑے گا۔ ملک کی معاشی صورتحال بھی دیگر گو ہے ڈالر کی انچی اوڑان کا کوئی پرسانے حال نہیں ملک کی سیاسی صورت حال بھی مقدوش ہے توانائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کا رجحان ہے لوڈ شیڈنگ کی پریشانی اپنی جگہ پر ہے اس طرح آنے والے دنوں میں کئی مشکلات میں اضافہ ہونے کے امکانات موجود ہیں ایسی صورت حال میں کاروبار کرنا بہت مشکل رہے گا۔

بین الاقوامی کاٹن کے بھاؤ میں بھی اتار چڑھا ؤکی صورت حال ہے استحکام کا فقدان ہے جس کے باعث کاروباری فیصلہ کرنا بہت ہی مشکل رہے گا۔ صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 21000 تا 23000 روپے رہا۔ پھٹی کا بھا ؤفی 40 کلو 9000 تا 10000 روپے رہا۔ بنولہ، کھل اور تیل کے بھاؤ میں اضافہ کا رجحان رہا ۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ فی من 21000 روپے کے بھا ؤپر مستحکم رکھا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں اتار چڑھا ؤکے بعد مجموعی طور پر تیزی رہی نیویارک کاٹن کے جولائی وعدے کا بھا ؤ138 امریکن سینٹ سے بڑھ کر 146.52 سینٹ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر 145.20 سینٹ پر بند ہوا۔ USDA کی ہفتہ وار برآمدی اور فروخت کے مطابق 22-2021 کی 2 لاکھ 59 ہزار 200 %گانٹھوں کی فروخت ہوئی جو گزشتہ ہفتے سے 27 فیصد کم تھی۔

چین 1 لاکھ 14 ہزار 500 گانٹھیں خرید کر سرفہرست رہا۔ویتنام 1 لاکھ 4 ہزار 600 گانٹھیں خرید کر دوسرے نمبر پر رہا۔ترکی 16 ہزار 700 گانٹھیں خرید کر تیسرے نمبر پر رہا۔2022-23 کی 1 لاکھ 2 ہزار 900 گانٹھوں کی فروخت ہوئی۔چین 66 ہزار 100 گانٹھیں خرید کر سرفہرست رہا۔گوئٹے مالا 25 ہزار 900 گانٹھیں خرید کر دوسرے نمبر پر رہا۔میکسیکو 11 ہزار گانٹھیں خرید کر تیسرے نمبر پر رہا۔

برآمدات 3 لاکھ 35 ہزار 900 گانٹھوں کی ہوئی جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 31 فیصد کم ہے۔چین 95 ہزار 400 گانٹھیں درآمد کرکے سرفہرست رہا۔ویتنام 56 ہزار 200 گانٹھیں درآمد کرکے دوسرے نمبر پر رہا۔پاکستان 41 ہزار 200 گانٹھیں درآمد کرکے تیسرے نمبر پر رہا۔جمعرات کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے ایک قانون ساز ادارے نے کپاس کی کم از کم امدادی قیمت 8000 سے 9000 روپے مقرر کرنے کی سفارش کی۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.