آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں زراعت کے شعبہ کو درپیش چیلنجز کو نظر انداز کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سرپرست اعلیٰ پی ایف وی اے وحید احمد نیوفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2022-23کے بجٹ میں زرعی شعبہ کو درپیش چیلنجز کو نظر انداز کیا ہے۔

 

پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے سرفہرست ملکوں میں شامل ہے جس کے براہ راست اثرات زرعی شعبہ پر مرتب ہورہے ہیں، وفاقی بجٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فنڈز میں 30فیصد کٹوتی باعث تشویش ہے۔ ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرکے ہنگامی بنیادوں پر زراعت کے شعبہ کو ترقی دی جائے ورنہ پاکستان کی فوڈ سیکیوریٹی کو لاحق خدشات ملکی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

وحید احمد نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبہ کے لیے موسمیاتی تبدیلی سب سے بڑا خطرہ ہے رواں سیزن موسمیاتی اثرات اور پانی کی قلت کی وجہ سے آم کی پیداوار میں پچاس فیصد کمی کا سامنا ہے اسی طرح دیگر بڑی فصلوں اور پھلوں سبزیوں کی پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے وفاقی بجٹ میں اضافہ کی ضرورت تھی تاہم حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 30فیصد کمی کرکے 10ارب روپے کے فنڈز مختص کیے۔

ٓان کا کہنا تھا کہ زرعی شعبہ کی لاگت میں اضافہ کسانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس سے قومی سطح پر اہم اجناس اور فصلوں کی پیداوار متاثر ہورہی ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر فصلوں کے بیج درآمد کیے جاتے ہیں روپے کی قدر میں کمی اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں دام بڑھنے سے بیجوں کی قیمت غیرمعمولی حد تک بڑھ چکی ہے اس کے ساتھ کھاد، زرعی ادویات، بجلی، زرعی مشینری کی لاگت بھی بڑھ چکی ہے۔

زرعی لاگت بڑھنے سے اجناس اور مقامی فصلوں کی قیمت بڑھ رہی ہے جو ایک جانب زرعی شعبہ کی آمدن میں کمی اور دوسری جانب مہنگائی میں اضافہ کاسبب بن رہی ہے۔ وحید احمد نے کہا کہ حکومت نے زرعی ان پٹس سستے کرنے کے بجائے کھاد پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ کردیا جو تشویشناک امر ہے۔ زرعی شعبہ کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کی ضرورت ہے تاکہ ملکی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ زرعی اجناس ایکسپورٹ کرکے زرمبادلہ کمایا جاسکے۔

وحید احمد نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ ملک میں طویل مدتی زرعی پالیسی تشکیل دی جائے جس کے تحت وفاق اور صوبوں کے وسائل اکھٹے کرکے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے زراعت کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ ملکی سطح پر ریسرچ کے ذریعے فصلوں کے جدید بیج تیار کیے جائیں جو موسمیاتی اثرات کا مقابلہ کرسکیں۔ وحید احمد نے زرعی جامعات میں کی جانے والی تحقیق کو عالمی معیار سے ہم آّہنگ کرنے اور زرعی جامعات میں پڑھائے جانے والے نصاب کو بھی جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ زرعی جامعات، زرعی تحقیق کے وفاقی اور صوبائی اداروں، نجی شعبہ اور پراسیسنگ انڈسٹری کو ایک پیج پر لایا جائے اور آنے والے سخت حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی سطح پر موثر اور طویل مدتی حکمت عملی کے ساتھ زراعت کے شعبہ کو مضبوط بنایا جائے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.