سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار علی ملک نے وفاقی بجٹ 2022-23 کو موجودہ صورتحال میں متوازن، ترقی اور برآمدات پر مبنی بجٹ قرار دیا ہے جس میں ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لئے پر کشش مراعات دی گئی ہیں۔ جمعہ کو وفاقی بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی کے لیے شاندار اصلاحات کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں جن قابل ذکر اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے ان سے آنے والے دنوں میں قومی معیشت کو پھلنے پھولنے اور درست سمت متعین کرنے میں مدد ملے گی اور معاشرے کے غریب طبقات کو بھی ریلیف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی اشاریے بہتر ہوں گے اور بہتر ترسیلات زر کے ساتھ جی ڈی پی کی نمو میں نمایاں بہتری آئے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی بقا بنیادی طور پر مستحکم معیشت پر منحصر ہے، امید ہے کہ دانشمندانہ اقتصادی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کرے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے دانشمندانہ فیصلے سے کاروباری برادری پرسکون انداز میں کاروبار کر سکے گی، جبکہ مراعاتی پیکجز سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور برآمدات کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ صنعت کار، تاجر، پرچون فروش، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان اور دیگر کاروباری طبقات پریشانی کا شکار ہیں اور انہیں بھاری مالی نقصانات کا سامنا ہے۔

تاہم حکومت نے اس بحران پر قابو پانے کے لیے غیر معمولی جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے زرعی ترقی کو زیادہ سے زیادہ وسعت دینے کی فوری ضرورت پر زور دیا کیونکہ ترقی یافتہ زرعی شعبے کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت نے ہائی ٹیک ہائبرڈ بیجوں کا استعمال کرتے ہوئے زرعی شعبے کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنے اور تحقیقی و ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے ریکارڈ فنڈز مختص کیے ہیں۔

انہوں نے پن بجلی کی استعداد کار کو بہتر بنانے کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کرنے پر بھی وزیر اعظم کے وژن کو سراہا اور صنعتی سیکٹر کیلئے بجلی و گیس کی مسلسل سپلائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ افتخار علی ملک نے امید ظاہر کی کہ تاجر برادری کے اطمینان کے لیے بجٹ کے حوالے سے ان کے تمام اضطراب کو دور کیا جائے گا۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.