محکمہ زراعت نے کپاس کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے پودوں کی سفارش کردہ تعداد، چھدرائی، جڑی بوٹیوں کی تلفی، بیماریوں ، ضرررساں کیڑوں کا تدارک اور فصل کی بروقت آبپاشی کی ہدایت کی ہے۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا کہ کپاس کی کاشت کے بعد چھدرائی کا عمل بہت ضروری ہے، اچھی اور معیاری پیداوار کے حصول کیلئے قطاروں اورپودوں کاسفارش کردہ درمیانی فاصلہ برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ پودے جگہ کی مناسبت سے بڑھوتری کر سکیں، پودوں کی فی ایکڑ تعداد 17 ہزار سے23 ہزار رکھی جائے اور مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کیلئے پودوں کا درمیانی فاصلہ9 تا12 انچ رکھا جائے، اگر پودوں کی تعداد زیادہ ہو تو پودوں کا قد بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور پھل دار شاخیں کم بنتی ہیں یا ان کا سائز چھوٹا رہ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ پودوں کے نچلے حصوں تک روشنی نہیں پہنچتی اور سپرے بھی بہتر طور پر نہیں ہوسکتی، اگر پودوں کی تعداد کم ہو تو فی ایکڑ پیداوار بھی کم ہوجاتی ہے لہذا پودوں کی مناسب تعداد پوری کرنے کیلئے چھدرائی کا بروقت عمل انتہائی ضروری ہے،چھدرائی کا عمل بوائی سے 20تا 25 دن کے اندر مکمل کر لیا جائے،پہلی چھدرائی اس وقت کی جائے جب پودوں کا قد6انچ ہو اور دوسری چھدرائی اس وقت کی جائے جب پودوں کا قد 12 انچ تک ہوجائے۔
چھدرائی کے بعد جڑ ی بو ٹیوں کی تلفی بھی بہت ضروری ہے، کپاس کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی بہتات کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں 50 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے،کھیت میں جڑی بوٹیاں اگ آنے کی وجہ سے کپاس کی فصل میں نمی کی کمی ہوتی ہے،پودوں کو خوراکی اجزا کم ملتے ہیں اور یہ جڑی بوٹیاں نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں کی پناہ گاہ بن جاتی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ فصل کو نقصان سے بچانے کے لیے جڑی بوٹیوں کی تلفی ضروری ہے ،اس سلسلے میں زمین کی تیاری کے وقت پچھلی فصل کی باقیات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، روٹاویٹر اور مٹی پلٹنے والا ہل چلایا جائے تو بہت حد تک جڑی بوٹیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے، جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے کپاس کی فصل میں کاشت کے 45 تا 50 دن کے اندر حسب ضرورت ایک یا دو مرتبہ خشک گوڈی کی جائے یا ٹریکٹر کی مدد سے لائنوں کے درمیان ہل چلائے جائیں تو جڑی بوٹیوں کو موثر طور پر تلف کیا جاسکتا ہے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.