جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو کپاس کی فصل پر کاٹن ملی بگ اور ڈسکی بگ کو فوری تلف کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع خصوصاَ کپاس کی کاشت کے چند علاقوں میں بعض مقامات پرانتہائی محدود پیمانے پر پودوں، جڑی بوٹیوں اور آرائشی پودوں پر ان کیڑوں کامعمولی حملہ مشاہدے میں آیا ہے لہٰذا اس ضمن میں کسی غفلت یاکوتاہی کامظاہرہ نہ کیاجائے۔

انہوں نے کاشتکاروں کو آگاہ کیاکہ یہ کیڑے کپاس کے پھولوں اور ٹینڈوں سے رس چوس کرنہ صرف پیداوارمیں کمی کا سبب بنتے بلکہ روئی کو داغ دار کر کے کوالٹی کو بھی متاثر کرتے ہیں لہٰذا ان کے تدارک کیلئے ابھی سے حکمت عملی مرتب کر کے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمدہ قسم کی کپاس اور روئی پیدا کرنے کے لیے صاف چنائی،ذخیرہ اور ترسیل میں احتیاط کے ساتھ ساتھ ان کیڑوں پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ ان کیڑوں کے بالغ اور بچے دونوں حالتوں میں سبز ٹینڈے میں اپنی سوئی داخل کر کے بیج کا رس چوس لیتے ہیں جس سے متاثرہ بیج اور روئی پر بیکٹریا اور فنجائی کا حملہ ہو جاتا ہے جس سے ٹینڈا پوری طرح نہیں کھلتا اور غیر معیاری روئی پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ کیڑے کے فضلات سے بھی روئی آلودہ ہو جاتی ہے یا پھر جننگ فیکٹریوں میں جننگ کے دوران ان کیڑوں کے کچلنے سے روئی پر داغ بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بیج پر شدید حملہ کی صورت میں تیل کے اجزا کم ہو جاتے ہیں اور اس طرح بیج کا اگاؤ بھی متاثر ہوتا ہے لہٰذا ان کیڑوں کی میزبان فصلوں جن میں بھنڈی توری، جوار، باجرہ اور پٹ سن پر بھی ان کیڑوں کی تلفی کو یقینی بنایاجائے نیز جڑی بوٹیوں کی تلفی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار فصلوں پر حملہ کی صورت میں زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ زہروں کا سپرے کریں تاکہ کپاس کی فصل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.