پاکستان کارپٹ مینو فیکچررزاینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت افغانستان سے آنے والے خام اورجزوی تیار خام مال پر عائد ٹیکسز میں ریلیف کے مطالبات کوآئندہ مالی سال کے بجٹ میں پورا کرے ،سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ درآمد کنندگان کی طرح کمرشل درآمد کنندگان کو بھی سیلز ٹیکس میں ریلیف دیا جائے ،برآمدات کو بڑھائے بغیر معیشت کی ترقی ممکن نہیں، اس لئے فریٹ سمیت دیگر مدوںمیں خصوصی پیکج آنا چاہیے ۔

 

ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عبد اللطیف ملک، کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف، وائس چیئرمین اعجاز الرحمان،سینئر ایگزیکٹو ممبرریاض احمد، سعید خان، عثمان اشرف،محمداکبر ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات کے فروغ کیلئے حال ہی میں سیکرٹری تجارت اور چیئرمین ایف بی آر کو بجٹ کے حوالے سے تجاویز اور مطالبات سے آگاہ کیا گیا ہے ، اگر ہماری گزارشات کو زیر غور لاتے ہوئے بجٹ کا حصہ بنایا جائے تو ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت برآمدات میں دوبارہ عروج حاصل کرسکتی ہے جس سے ملک کو قیمتی زر مبادلہ میسر آئے گا اور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے ۔

انہوں نے کہاکہ اگر حکومت سرپرستی کر ے تواس انڈسٹری کے ذریعے دیہی علاقوںمیں انقلاب لایا جا سکتاہے جس سے اربنائزیشن کو روکنے میں بھی مددملے گی ۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.