سی پیک کے تحت مختلف ماحول دوست منصوبے اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے

قابل تجدید توانائی کے شعبے میں چین کی زبردست استعداد سے پاکستان کا توانائی کا شعبہ بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس کی بدولت پاکستان کو توانائی کے بحران پر قابہ پانے میں بھی مدد ملے گی جو گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید شکل اختیار کر چکا ہے۔توانائی اور ترقیاتی شعبے کے ماہرین کی جانب سے یہ رائے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبے اور ماحول دوست رہنما اصول کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ برائے استعداد سازی کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پیش کی۔

 

پرائیویٹ پاور اندانفرا سٹرکچر بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہجہاں مرزا نے شرکا کو بتایا کہ پاکستان میں اس وقت 400 میگا واٹ کے قریب بجلی گھریلو سطح پر شمسی توانائی سے حاصل کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ بلوچستان کے 9اضلاع جو قومی گرڈ سے منسلک نہیں ہیں، میں نجی۔سرکاری شراکت داری کے تحت شمسی توانائی کے منصوبے شروع کر رہا ہے۔

اسی طرح صحرائے چولستان میں 1000میگا واٹ کا سولر پارک اس وقت زیر تعمیر ہے۔خیبر پختونخواہ بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے سربراہ ڈاکٹر حسن دائود بٹ نے کہا کہ سی پیک کی بدولت پاکستان کی معاشتی ترقی تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔یہ مقصدانراسٹرکچر کی ترقی، ملک کے اندر رابطے کی بہتر سہولتوں اور سرمایہ کاری و روزگار کے لیے مواقع پیدا ہونے سے حاصل ہو گا۔

تا ہم ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمارے نوجوانوں کو زیادہ ہنر مند ی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ایس ڈی پی آئی کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقار احمد نے کہا کہ ماحول دوست سرمایہ کاری پاکستان کی ماحول کے حوالے سے قومی یقین دہانیوں کا ہدف حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ہمیں بین الاقوامی اور خصوصا سی پیک کے تحت سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے واضع مالیاتی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

فیوڈن یونیورسٹی چین کے ڈاکٹر کرسٹوف وانگ نے شرکا کو بتایا کہ چین میں سی پیک کے منصوبوں کو ماحول دوست بنانے کے عزم کو قواعد میں شامل کر دیا گیا ہے۔ایس ڈی پی آئی کی ڈاکٹر حنا اسلم نے کہا کہ اس فورم کے قیام کا مقصد مختلف سٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی گفتگو کے ذریعے استعداد سازی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ایس ای سی پی کی ایڈیشنل ڈائریکٹر ناجیہ عبید نے شرکا کو بتایا کہ ماحول دوست منصوبوں کے لیے ایس ای سی پی گرین بونڈز کی سہولت بہم پہنچاتا ہے۔

ایس ڈی پی کے ڈاکٹر ساجد امین نے اس سے قبل ایس ای سی پی کے پائیدار گرین فنانس کے لیے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا۔سٹیٹ بینک ف پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے محمد عرفان نے کہا کہ سٹیٹ بینک ملک میں قبل تجدید توانائی کے منصوبوں کی ایک سکیم پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ورکشاپ کے دوران جے ایس بینک کے علی حسن، سینٹر فار ایکسلینس فار چائنا پاکستان اکنامک کوریڈوکے ڈاکٹر لیاقت علی شاہ اور محمود گروپ کے انیس خواجہ نے بھی موضوع کے مختلف پہلوئوں پر اپنی آرا ء پیش کیں۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.