قائم مقام صدرایف پی سی سی آئی سلیمان چائولہ نے بجلی کے نرخوں میں 7.91رو پے فی یو نٹ کے بے مثال اورتا ریخی اضافے پر پوری کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری کی طرف سے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہی؛جس کے نتیجے میں اگلے مالی سال یعنی 2022-23کے لیے بیس ٹیرف 24.82روپے فی یونٹ ہو جائے گاجبکہ موجودہ مالی سال یعنی 2021-22 کے لیے ٹیرف 16.91رو پے فی یونٹ تھا۔

 

انہو ں نے مز ید کہا کہ نیپرا کی جانب سے یہ 47 فیصد کا حیران کن اضافہ ہے اور یہ کاروبار کرنے کی لاگت اور کاروبار کرنے میں آسانی کے اشاریوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا۔ سلیمان چائولہ نے وضاحت کی کہ فیول اور بجلی کی قیمتوں کا مجموعی اثر ایک خطر ناک معاشی جمود کا باعث بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں بہت زیادہ کار وباری ادارے دیوالیہ ہو جائیں گے، بجلی کے بلوں میں ناگزیر ڈیفالٹ ہوں گے، بہت سے برآمدی آرڈرز پورے نہیں ہو پا ئیں گے، بیروزگاری میں اضا فہ ہوگا اور آخر کار ٹیکس ریونیوز کا بھی نقصان ہو گا۔

قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی نے بتایا کہ مہنگائی پہلے ہی 13.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو کہ 30 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ اور تازہ ترین پیشرفت کے حساب سے یہ صرف4 سے 8 ہفتوں کے مختصر عرصے میں 20 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔سلیمان چائولہ نے آگاہ کیا کہ ایندھن اور بجلی کی قیمتوں کے مشترکہ اثرات کے زیر اثر افراط زر کی وجہ سے عوام الناس کو اشیا ئے خوردو نوش کی مہنگائی کے ذریعے سب سے زیادہ نقصان پہنچے گااور آنے والے دنوں میں بے روزگاری سے مزید متاثر ہوں گے۔

 

لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ وفاقی چیمبر کی مشاورت سے ایس ایم ایز کے لیے ایک حفاظتی طریقہ کار وضع کری؛ کیونکہ ایس ایم ایز ہی ترقی اور روزگار پیدا کرنے کا حقیقی انجن ہیں۔ انہو ں نے بجلی کے نرخوں میں اضافے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے عوامل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں،کیپسٹی کاسٹ اور چیلنجز،ٹرانسمیشن و ڈسپیچ (T&D) نقصانات اور روپے کی قدر میں شدید کمی اس کی اصل وجوہات ہیں اوران تمام مسائل سے بہتر مینجمنٹ اور منصوبہ بندی کے ساتھ نمٹا جا سکتا ہے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.