پاکستان میں دودھ کی 60 فیصد ضرورت بھینسوں، 35 فیصد گائے، 4 فیصد بھیڑ بکریوں اور1 فیصد اونٹنی کے دودھ سے پوری کی جاتی ہے جبکہ95 فیصد دودھ کو بغیر کسی پراسس کئے فروخت کیا جا رہا ہے۔زرعی یونیورسٹی فیصل آبادمیں فیکلٹی آف اینیمل ہسبنڈری زرعی یونیورسٹی، ڈیری لیک لمیٹڈاور ڈیری کیٹل فارم کے اشتراک سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹراقرار احمد خاں نے کہا کہ جس کیلئے ڈیری سائنسدانوں کو فی جانور پیداوار میں اضافے کیلئے مربوط کاوشیں عمل میں لانے ہونگے۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ دودھ میں ملاوٹ کے رجحان کی وجہ سے عوام کو خالص دودھ کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈین اینیمل ہسبنڈری ڈاکٹر قمر بلال نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی اکیڈمیا تعلقات کو فروغ دینے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ انڈسٹری اور کاشتکاروں کو حقیقی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقات کی جاسکے۔

ڈیری لیک لمیٹڈ زونل سیلز منیجرنے کہا کہ پاکستان میں عوام تک خالص دودھ کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر قابو پا کر ہی غذائیت کی کمی جیسے بحران سے نپٹا جا سکتا ہے۔ڈیری کیٹل فارم ایسوسی ایشن کے صدر شہباز وڑائچ،ڈاکٹر محمد یونس، ڈاکٹر حق نواز، ڈاکٹر ریا ورک، ڈاکٹر یوسف الرحمن،ڈاکٹر خالد بشیر اور ڈاکٹر فواد نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.