وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے کہاہے کہ نئے ڈیموں کی تعمیر زراعت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، لوگوں کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے اور خوراک میں خود مختاری کے حصول کے لیے بہت ضروری ہے۔جمعرات کے روز309.6 ارب روپے کی لاگت سے زیر تعمیر مہمند ڈیم کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کثیر الجہتی منصوبہ پشاور اور ملحقہ علاقوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے علاوہ ملک کی اقتصادی اور زرعی پانی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ مہمند ڈیم پر 20 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ بقیہ کام 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کی پیداوار کو بڑھانے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نئے ڈیموں کی تعمیر کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ بڑے ڈیموں کا براہ راست معیشت پر اثر پڑتا ہے اور اگر چار نئے ڈیم بنائے جائیں تو نہ صرف ہماری معاشی اور زرعی ترقی میں بہتری آئے گی بلکہ ملکی قرضوں کی ادائیگی میں بھی بہت مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ مہمند ڈیم کی تکمیل سے پشاور میں پانی کی کمی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ مہمند ڈیم سے پشاور کو یومیہ 300 ملین گیلن پانی پینے کے لیے فراہم کیا جائے گا جس کے 957 ملین روپے کے فوائد ہیں۔ اسی طرح یہ منصوبہ ہر سال 45.76 بلین روپے سالانہ ریونیو کے ساتھ نیشنل گرڈ کو 2.86 بلین یونٹ ماحول دوست بجلی فراہم کرے گا۔مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ضلع مہمند میں منڈا ہیڈ ورکس سے تقریباً پانچ کلومیٹر اوپر دریائے سوات پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔

 

مہمند ڈیم پر تعمیراتی کام اچھی رفتار سے جاری ہے اور کویڈ19وبائی مرض کے باوجود اس منصوبے پر 14 مختلف مقامات پر کام جاری ہے۔وفاقی وزیر خورشید شاہ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان نے جرمنی کو 20 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی تھی۔ایک سوال کے جواب میں خورشید شاہ نے کہا کہ پاکستان سیاسی عدم استحکام اور افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

 

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 10 لاکھ نوکریاں، 50 لاکھ گھر اور ایک ارب درخت کہاں ہیں؟کے پی کے عوام عمران خان کو 2023 کے عام انتخابات میں ان کے ٹوٹے ہوئے وعدوں کا جوابدہ بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران 22 ہزار ارب روپے کے ریکارڈ قرضے لینے کے باوجود عوام کے مسائل اور معاشی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

 

پاکستان کی تقسیم کے بارے میں عمران خان کے حالیہ بیان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سید خورشید شاہ نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس پر کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتاانہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک طاقتور فوج ہے جو کسی بھی بیرونی اور اندرونی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ مادر وطن کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت ملک کو موجودہ معاشی اور دیگر چیلنجز سے نکالنے اور معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور الیکشن وقت پر ہوں گے۔قبل ازیں وفاقی وزیر کو واپڈا حکام کی جانب سے مہمند ڈیم کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔انہیں بتایا گیا کہ مہمند ڈیم کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1.293 ملین ایکڑ فٹ (MAF) اور 800 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے موجودہ زمین کی 160,000 ایکڑ کے علاوہ تقریباً 18,237 ایکڑ نئی زمین کو سیراب کیا جائے گا جبکہ اس کے سالانہ فوائد کا تخمینہ 2.23 بلین روپے ہے۔

 

اس منصوبے سے پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ کو سیلاب سے بچانے میں مدد ملے گی جس سے سیلاب سے بچاو¿ کی مد میں سالانہ 45.76 بلین روپے کی آمدن ہوگی۔ منصوبے کے مجموعی فوائد 51 ارب روپے ہیں۔وفاقی وزیر کو مزید بتایا گیا کہ ڈیم کی تعمیر کے دوران تکنیکی افرادی قوت اور مزدوروں کے لیے 6,100 سے زائد ملازمتیں پیدا ہوں گی۔خورشید شاہ نے واپڈا حکام کو ہدایت کی کہ اس میگا پراجیکٹ پر کام تیز کیا جائے تاکہ اسے مقررہ مدت میں مکمل کیا جا سکے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.