ا سسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت فیصل آبادخالد اقبال نے باغبانوں کو گرمیوں میں چھوٹے پودوں کو ہفتہ میں 2باراور بڑے پودوں کو8 سے 10 دن کے وقفہ سے پانی لگانےکا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جون میں پھل دار پودوں کے تنوں کو نیلے تھوتھے و چونے کے محلول سے سفید ی کرکے تنے کوگرمی کے مضر اثرات سے محفوظ بنائیں۔

 

انہوں نے کہا کہ باغبان موسم گرما میں پھلدار پودوں خصوصاً چھوٹے پودوں کو زیادہ درجہ حرات اور گرم ہوا سے محفوظ بنانے کیلئے ان کی مناسب نگہداشت کریں۔ انہوں نے بتایاکہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں جون سے جولائی کے درمیان سخت گرمی پڑتی ہے اورگرم ہواؤں و لو کے اثر سے چھوٹے و بڑے پودوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے، پھل جھلس جاتا، چھلکا پھٹ جاتا اور پھل کی کوالٹی بری طرح متاثر ہوتی ہے نیز ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہونے کی وجہ سے پودوں میں خوراک بنانے کے عمل میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس سے پھل کا کیڑا بڑھ جاتا ہے لہٰذا باغبان پھل دار پودوں کو گرمی کے اثرات سے محفوظ کرنے کیلئے پودوں کے گھیرے میں ہلکی گوڈی کرکے سطح زمین کو 4سے6 انچ گھاس کی موٹی تہہ سے ملچنگ کریں۔

انہوں نے کہاکہ نرسری سے نئے پودے لاتے وقت اس بات کا خیال رکھاجائے کہ پیوند کی اونچائی 12سے 15 انچ ہو کیونکہ زیادہ اونچا پیوند دھوپ اور گرمی کی زد میں آنے سے کمزور ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ باغبان باغوں کے گرد جامن،کچنار، تخمی آم اور بیر ہوا توڑ باڑکے طورپر کاشت کریں نیز چھوٹے پودوں کو گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے سرکنڈا یا پرالی سے ڈھانپ دیں،اسی طرح پھل کو گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے جنوب مغربی حصے کی طرف جنتر کی باڑ لگا دیں۔انہوں نے کہاکہ مالٹا، سنگترہ اور نمو کے پھل جن پر سورج کی گرم شعاعیں براہ راست پڑتی ہوں ان پر سادہ پانی کا سپرے بھی کیاجائے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.