اقوام متحدہ کی عالمی موسمیاتی تنظیم ڈبلیو ایم او کے مطابق، آئندہ پانچ سالوں کے دوران عالمی اوسط درجۂ حرارت صنعتی ترقی سے قبل کی سطح سے 1.5 فیصد اوپر تک پہنچنے کا امکان 50 فیصد ہے۔ سنہ 2015 میں اس بات کا امکان صفر فیصد کے قریب تھا۔

ڈبلیو ایم او نے دنیا بھر کی موسمیاتی ایجنسیوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر عالمی آب و ہوا کی موجودہ صورتحال کے تجزیئے پر مبنی آب و ہوا کی سالانہ اپ ڈیٹ جاری کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق موازنے کے لیے صنعتی ترقی سے قبل کے دور کی سطح کی نسبت گزشتہ سال عالمی اوسط درجۂ حرارت کی سطح 1.1 فیصد زائد تھی۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی اوسط درجۂ حرارت میں اضافہ 1.5 ڈگری کی سطح کے نزدیک پہنچ رہا ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں یہ وہ سطح ہے، جب موسمیاتی تبدیلیوں کا ناقابل واپسی انداز میں پھیلاؤ شروع ہو جاتا ہے۔

اس میں 2022ء اور 2026ء کے درمیان کسی ایک سال کے گرم ترین سال رہنے کے 93 فیصد امکان کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔ گرم ترین سال کا گزشتہ ریکارڈ 2016ء میں قائم ہوا تھا۔

موسمیاتی تبدیلیوں پر گزشتہ سال منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس کوپ26 میں دنیا کے رہنماؤں نے عالمی اوسط درجۂ حرارت میں اضافے کو 1.5 فیصد تک محدود رکھنے کے لیے اخراج کی سطح کے اہداف پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.