اسلام آباد : پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات آج سے دوحہ میں شروع ہوں گے،مذاکرات میں ٹیکس وصولی بڑھانے، پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں اضافے پر بات چیت ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف سے قرض پروگرام بڑھانے یا جاری رکھنے کیلئے مذاکرات آج شروع کرے گا، بغیر آئی ایم ایف کی شرائظ پوری کئے آج حکومتی اداروں کا وفد دوحہ پہنچ گیا ہے۔

پاکستانی وفد کی سربراہی سیکرٹری خزانہ کر رہے ہیں جبکہ مذاکرات میں آئی ایم ایف مشن کی قیادت نیتھن پورٹرکریں گے۔

مذاکرات ایک ہفتہ جاری رہنے کا امکان ہے، پاکستانی وفد میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور وزارت توانائی کے نمائندے شریک ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کے ساتویں اقتصادی جائزے کی تکمیل کیلئےمذاکرات ہوں گے ، آئی ایم ایف سے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

مذاکرات میں ٹیکس وصولی بڑھانے ، پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں میں اضافہ پرغورکیا جائے گا۔

آئی ایم ایف نے ملک میں جاری تیل، بجلی پرتمام سبسیڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اگلے مالی سال میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف بھی تقریبا ڈبل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہباز حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائظ پوری نہیں کی، بجلی، پیٹرولیم مصنوعات پر سبسیڈی ختم نہیں کیں اور نہ دوسرے کوئی سخت فیصلے لیے، جس کے باعث مذاکرات ناکام ہو سکتے ہے یا پھر کچھ ہفتے جاری رہے سکتے ہیں۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.