نارووال  بحران برقرار عورتیں بھی یوریا کھادلینے کے لیے لائنوں میں لگ گئیں۔بتایا گیا ہے کہ ظفروال سمیت دیہی علاقوں میں کھاد کا بحران شدت اختیار کر گیا کسان ذلیل خوار ہونے لگے۔ کھاد کی ایک بوری کے لئے کسان سارا دن لائن میں لگنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ کسانوں کا کہنا ہے کبھی دو دن اور کبھی تین دن بعد ایک بوری کھاد ملتی ہے۔

سارے کام کاج چھوڑ کر یہاں کھاد کے لیے لائن میں لگے ہیں۔

حکومت نے کھاد کے لیے کسان کو ذلیل و خوار کر دیا ہے۔ اچھے بھلے عزت دار لوگ حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث لائنوں میں خوار ہو رہے ہیں ۔ عورتیں بھی کھاد کی بوری کے لیے لائنوں میں لگنے پر مجبور ہو چکے ہیں کھاد نہ ملنے کی وجہ سے گندم کی فصل خراب ہو رہی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے اس بار گندم کی کمی کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔ یہی حال رہا تو پاکستان میں آٹا نایاب ہو جائے گا۔ مزید کسانوں کا کہنا ہے کہ ڈیلرز کھاد بلیک میں سیل کرتے ہیں ۔انتظامیہ خاموش تماشائی بن گئی ضلعی انتظامیہ کھاد بحران پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.