ملتان سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمود نے کہاہے کہ رواں برس سی سی آر آئی ملتان کپاس کی ایسی اقسام متعارف کرانے جا رہا ہے جو نہ صرف کپاس کے نقصان دہ کیڑے مکوڑوں کے خلاف مزاحمت رکھتی ہیں بلکہ کپاس کے دیگر چیلنجز جیسا کہ زیادہ درجہ حرارت یا زیادہ نمی، کپاس کا پھل گرنا یا پانی کی کمی وغیرہ جیسے ایشوز کا سامنا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کپاس کی کاشت کے لئے کپاس کا منظور شدہ بیج رجسٹرڈ کمپنی یا حکومتی ریسرچ اداروں سے لیا جائے۔انہوں نے مزیدکہاکہ ان اقسام کا پیداوار ی پوٹینشل تقریبا ً 40سے50سے فی ایکڑ ہے اور کپاس کی ان اقسام کے ریشے کی لمبائی28ملی میٹر سے زیادہ ہے۔یہ اقسام زیادہ پیداوار دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل سیکٹرکی ضروریات کے لئے انتہائی موزوں ہیں۔ ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ رواں برس ادارہ ہذا کی4نئی بی ٹی اقسام سی آئی ایم663،سی آئی ایم 678،سی آئی ایم785اور سائیٹو535 منظور ہوئی ہیں جبکہ ایک نان بی ٹی قسم سائیٹو226 منظور ہوئی ہے۔ادارہ ہذا رواں سال کے لئے کپاس کے کاشتکاروں کو دستیاب شدہ منظورشدہ کپاس کی اقسام بھی سرکاری نرخ پر فراہم کررہا ہے اور بلا تفریق عام وخاص کوئی بھی کاشتکار پہلے آئیے اور پہلے پائیے کی بنیاد پر ادارہ ہذا سے رابطہ کرکے سرکاری نرخ پر تمام اقسام کا بیج 250روپے فی کلو کے حساب سے خرید کر سکتا ہے۔ تمام کاشتکار ادارہ ہذا کی کپاس کی اقسام کی خریداری کے لئے دفتری اوقات میں رابطہ کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ نئے سال میں ادارہ ہذا کی طرف سے کپاس کے کاشتکاروں کے لئے کپاس کی ان اقسام سے نہ صرف کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا بلکہ پیداواری لاگت میں بھی خاطرخواہ کمی آئے گی۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.