December 3, 2021

فیصل آباد، حکومت نے آلودگی سے بچاؤ کے لئے صوبہ بھر میں دھان کے کاشتکاروں کو 80 فیصد سبسڈی پر1033کبوٹا رائس ہارویسٹرز فراہم کردیئے

فیصل آباد  حکومت نے آلودگی سے بچاؤ کیلئے صوبہ بھر میں دھان کے کاشتکاروں کو 80 فیصد سبسڈی پر1 ہزار33کبوٹا رائس ہارویسٹرز فراہم کردیئے ہیں جن کی مدد سے آگ لگائے بغیر دھان کے مڈھوں کی تلفی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی(سموگ)پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی، فصلات، باغات اور سبزیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اسلئے دھان کے کاشتکار کٹائی کے بعد مڈھوں کو آگ لگانے سے گریز کریں۔

انہوں نے بتایا کہ  صوبہ بھر میں ابتک فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کے1 ہزار7 سو56 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں اور اس ضمن میں ایسا کرنے والوں کے خلاف اب تک786 ایف آئی آرز کا اندارج عمل میں لایا گیا ہے اور ضلعی انتظامیہ نے اب تک ان افراد کو34 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

انہوں نے کہا  کہ دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے نہ صرف زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ کو نقصان پہنچتا اور زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ اس سے اٹھنے والا دھواں ٹریفک حادثات اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بھی بنتا ہے لہٰذاکاشتکار مڈھوں کو آگ لگانے کی بجائے زمین میں ملا کر زرخیزی میں اضافہ کریں۔

انہوں نے کہا  کہ د ھان کے مڈھوں کو تلف کرنے  کے لئے  کاشتکار روٹا ویٹر اور مشین سے کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کی مدد سے فصل کی باقیات کو زمین میں ملا دیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا دیں کیونکہ اس سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ زراعت کی ٹیمیں دھان کے مڈھوں کو آ گ نہ لگانے کیلئے مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

انہوں نے دھان کے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ اس سلسلہ میں محکمہ سے مکمل تعاون کریں کیونکہ سموگ کی وجہ سے انسانی زندگیوں پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں لہٰذا عوامی مفاد اور اپنے بچوں کے مستقبل کے پیش نظر کاشتکاردھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے گریز کریں تاکہ ہمارا ماحول فضائی آلودگی سے بچا رہے۔