December 3, 2021

چاول کی کاشت کیلئے حیران کن مشین تیار کرلی گئی

چاول کی کاشت کے لیے پانی کی بہت زیادہ مقدار درکار ہوتی ہے لیکن اب مصری سائنسدانوں نے ایک ایسی مشین تیار کرلی ہے جو چاول کی فصل سے قبل زمین کو کچھ اس طرح تیار کرتی ہے کہ چاول اگانے کے لیے پانی کی ضرورت نصف اور کھاد کی ضرورت ایک چوتھائی رہ جاتی ہے۔
قاہرہ میں واقع ریگستانی تحقیقی مرکز کے نوجوان سائنسداں محمد السعید الجری نے یہ مشین بنائی ہے جس پر انہیں انٹرنیشنل کمیشن برائے آن اریگیشن اینڈ ڈرینیج ( آئی سی آئی ڈی) کی جانب سے سال 2016 کا ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔ اس سادہ مشین کو پانی اور مٹی کی ’’مینجمنٹ مشین‘‘ کا نام دیا گیا ہے جو چاول کی فصلوں کو خودکار انداز میں زمین میں بوتی ہے۔
عموماً پانی کی 10 سے 15 سینٹی میٹر بلند سطح والی زمین پر چاول اگائے جاتے ہیں جس کے لیے پانی کی بڑی مقدار اور مصنوعی کھاد درکار ہوتی ہے، یہ مشین چلتے ہوئے زمین پر انگریزی حرف ’’وی‘‘ جیسی شکل کی محرابیں بناتی ہے جن کی گہرائی اور چوڑائی 20 سینٹی میٹر ہوتی ہے اور ان کے اندر مشین خودکار طور پر چاول کے بیج بوتی رہتی ہے۔ فصلوں کی خاص شکل کی بناء پر صرف ’’وی‘‘ شکل کی نالیوں ہی میں پانی دینا کافی ہوتا ہے جب کہ روایتی زراعت کے تحت چاول کی آبپاشی میں پورے کھیت کو بڑی مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے جس کا بڑا حصہ ضائع ہوتا ہے۔
اس مشین کو مصر کے کئی علاقوں میں آزمایا گیا ہے اور اس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ نہ صرف پانی کی ضرورت آدھی ہوئی بلکہ فصل کی پیداوار میں بھی 5 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ محمد السعید کے مطابق مشین کی قیمت 5 لاکھ روپے ہے لیکن اسے تجارتی پیمانے پر تیار کرنے کے لیے کئی اہم کام کرنے ہوں گے جن میں مزید آزمائشیں بھی شامل ہیں۔ پاکستان ہو، مصر ہو، بنگلا دیش ہو، چین ہو یا مصر، چاول کی فصلیں زراعت میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرتی ہیں اور مصر میں دریائے نیل پر ایتھوپیا کے نئے ڈیم کے بعد پانی کی قلت مزید بڑھ جائے گی :-